پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ آج (چھ جون) جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پاکستان میں مقیم مہاجرین (جنھیں ’مہاجرین مقیم پاکستان‘ کہا جاتا ہے) کی 12 نشستوں کے حوالے سے دائر کردہ حکومتی ریفرنس کی سماعت کا باقاعدہ آغاز کر رہی ہے۔

کشمیر حکومت نے اِن 12 نشستوں اور دیگر متعلقہ آئینی معاملات پر رائے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

کشمیر کی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ مہاجرین کی اِن 12 نشستوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا اور رواں ہفتے کے دوران اس ضمن میں خطے کی اسمبلی سے ایک قرارداد بھی منظور کروائی گئی ہے۔

تاہم دوسری جانب کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی نے بھی ان 12 نشستوں کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے نو جون (منگل) کو غیر معینہ مدت کے لیے احتجاج کی کال دے رکھی ہے اور شہریوں کو ہنگامی صورتحال کے لیے راشن ذخیرہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

احتجاج کی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے کشمیر حکومت نے پاکستان کی وفاقی حکومت سے اضافی نفری طلب کی ہے جبکہ احتجاج کے پیش نظر جموں و کشمیر یونیورسٹی اور میرپور انٹرمیڈیٹ بورڈ نے آٹھ جون سے شروع ہونے والے امتحانات منسوخ کر دیے ہیں۔